Showing posts with label Contempt of court. Show all posts
توہین عدالت کیس: عمران خان کا بنچ نمبر ون میں ایک دن
توہین عدالت کیس: عمران خان کا بنچ نمبرون میں ایک دن
تحرير : نوشين يوسف
عام انتخابات میں ناکامی کے بعد عدلیہ کے کردار کو شرمناک کہنا۔۔۔سپریم کورٹ
نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو توہین عدالت نوٹس بھجوا ہی دیا. ٢ اگست کو عمران خان اپنا دفاع کرنے سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون پہنچے
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل حامد خان نے تفصیلی جواب جمع کرانےکے لئے کچھ مہلت مانگی۔ بعد ازاں انھوں نے مختصر بیان عدالت کو سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کبھی عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عمران تو قانون اور عدلیہ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد ہے۔ عمران کو عام انتخابات میں دھاندلی پر الیکشن کمیشن سے شکوہ ہے اور انھیں سپریم کورٹ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔

اس دوران بار بار عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کوئی نہ کوئی ساتھی بٹھا دیتا۔ اس دوران حامد خان بھی تھوڑے پریشان دیکھے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حامد خان سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی 31 درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں داخل ہیں۔ عمران خان کوآئین کے بارے میں بتائیں کہ جو کیسز الیکشن ٹریبیونل میں زیر سماعت ہوتے ہیں وہ سپریم کورٹ میں سنے نہیں جا سکتے۔
جب چیف جسٹس نے عمران خان کی پریس کانفرنس کے بارے میں دریافت کیا کہ جس میں انھوں نے عدلیہ کے لیے لفظ شرمناک کا استعمال کیا، تو حامد خان نے جواب دیا وہ تو ریٹرنگ افسران کے بارے میں رائے تھی۔ بنچ نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق تو عدلیہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہے۔ پھر بنچ نے دریافت کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ معافی نہیں مانگیں گے۔ حامد خان بولے کہ یہ میڈیا والے بھی نہ ہر چیز ۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہےکہ عمران خان ایک قد آور شخصیت ہیں، ان کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ چیف جسٹس اس طرح دباؤ میں آنے لگیں تو لوگ کہیں گے کہ ہمارا مقدمہ سنیں ورنہ گالی دیں گے۔ بالا آخر عمران خان اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈائس پر جا کر اپنے بات شروع کر دی۔۔ کہنے لگے کہ میں نہ آزاد عدلیہ کی بحالی کی خاطر 8 روز جیل کاٹی ہے، جو کسی سیاست دان نے نہیں کاٹی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا مت کہیں شرمندگی ہوتی ہے، بحالی عدلیہ کے لیے مزدوروں ، طالبعلوں پوری قوم نے کردار ادا کیا۔
عمران خان نے جب دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی تو بنچ نے نرمی سے کہا کہ آپ کے وکیل بات کر رہے ہیں نا۔۔۔۔(مقصد شاید عمران خان کو کوئی غلط بیان دینے سے روکنا تھا)۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان آپ کی پٹیشن پر یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا،آپ کہتے تھے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سپریم کورٹ کیسے مان لے کہ ماتحت عدلیہ کو شرمناک کہنا درست ہے۔ خیر سماعت کے بعد عدلیہ نے عمران خان کو 28 اگست تک دوبارہ جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب اتنی لمبی سماعت کی مہلت دینے پر کوئی پریس کانفرنس نہ ہو جائے۔
لیکن خان صاحب بھی جب عدالت سے باہر نکلے تو میڈیا سے اجتناب کرنے کی بجائے پھر گفتگو کر ڈالی اور کہا کہ انھیں پہلی مرتبہ علم ہوا ہے کہ لفظ شرمناک گالی ہے۔ اس دوران ان کے وکیل حامد خان خاموشی سے کنارے کھڑے رہے۔
میری رائے پوچھیں تو کہوں گی کہ سپریم کورٹ نے خواہ مخواہ میں عمران خان کو اتنی اہمیت دی جس کو عمران نے ہیرو بننے کے لیے بھرپور استعمال کرتے ہوئے جیل جانے اور نااہلی سہنے کی بات کر ڈالی۔ ججوں کے لب و لہجے سے واضح تھا کہ شاید سپریم کورٹ معاملے کو ختم کرنا چاہیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلی سماعت کے لیے لمبی تاریخ ڈال دی۔ لیکن ایک چیز یہ بھی لگی کہ خان صاحب کھلاڑی ہی ہیں ابھی تک سیاست دان نہیں بنے، ان کے سٹائل میں میچیورٹی نہیں آئی بلکہ کھلنڈرا پن موجود ہے۔ محاز آرائی سے اجتناب کرنے کی بجائے ہلہ گلہ چاہتے ہیں۔ تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ درست کہتے ہیں کہ وہ انتخابات ایسے ہی نہیں ہارے بلکہ انکو ہرانے کے لیے دھاندلی میں عدلیہ کا پورا ہاتھ ہے۔ عمران خان نےانتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار تو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو ٹھہرا دیا ہے لیکن بھول گئے ہیں کہ انتخابات کرانے میں ایک تیسرا فریق پاک فوج بھی تھی۔۔۔۔جن کے کردار کے بارے میں خان صاحب نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا۔
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل حامد خان نے تفصیلی جواب جمع کرانےکے لئے کچھ مہلت مانگی۔ بعد ازاں انھوں نے مختصر بیان عدالت کو سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کبھی عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عمران تو قانون اور عدلیہ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد ہے۔ عمران کو عام انتخابات میں دھاندلی پر الیکشن کمیشن سے شکوہ ہے اور انھیں سپریم کورٹ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔

اس دوران بار بار عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کوئی نہ کوئی ساتھی بٹھا دیتا۔ اس دوران حامد خان بھی تھوڑے پریشان دیکھے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حامد خان سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی 31 درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں داخل ہیں۔ عمران خان کوآئین کے بارے میں بتائیں کہ جو کیسز الیکشن ٹریبیونل میں زیر سماعت ہوتے ہیں وہ سپریم کورٹ میں سنے نہیں جا سکتے۔
جب چیف جسٹس نے عمران خان کی پریس کانفرنس کے بارے میں دریافت کیا کہ جس میں انھوں نے عدلیہ کے لیے لفظ شرمناک کا استعمال کیا، تو حامد خان نے جواب دیا وہ تو ریٹرنگ افسران کے بارے میں رائے تھی۔ بنچ نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق تو عدلیہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہے۔ پھر بنچ نے دریافت کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ معافی نہیں مانگیں گے۔ حامد خان بولے کہ یہ میڈیا والے بھی نہ ہر چیز ۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہےکہ عمران خان ایک قد آور شخصیت ہیں، ان کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ چیف جسٹس اس طرح دباؤ میں آنے لگیں تو لوگ کہیں گے کہ ہمارا مقدمہ سنیں ورنہ گالی دیں گے۔ بالا آخر عمران خان اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈائس پر جا کر اپنے بات شروع کر دی۔۔ کہنے لگے کہ میں نہ آزاد عدلیہ کی بحالی کی خاطر 8 روز جیل کاٹی ہے، جو کسی سیاست دان نے نہیں کاٹی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا مت کہیں شرمندگی ہوتی ہے، بحالی عدلیہ کے لیے مزدوروں ، طالبعلوں پوری قوم نے کردار ادا کیا۔
عمران خان نے جب دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی تو بنچ نے نرمی سے کہا کہ آپ کے وکیل بات کر رہے ہیں نا۔۔۔۔(مقصد شاید عمران خان کو کوئی غلط بیان دینے سے روکنا تھا)۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان آپ کی پٹیشن پر یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا،آپ کہتے تھے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سپریم کورٹ کیسے مان لے کہ ماتحت عدلیہ کو شرمناک کہنا درست ہے۔ خیر سماعت کے بعد عدلیہ نے عمران خان کو 28 اگست تک دوبارہ جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب اتنی لمبی سماعت کی مہلت دینے پر کوئی پریس کانفرنس نہ ہو جائے۔
لیکن خان صاحب بھی جب عدالت سے باہر نکلے تو میڈیا سے اجتناب کرنے کی بجائے پھر گفتگو کر ڈالی اور کہا کہ انھیں پہلی مرتبہ علم ہوا ہے کہ لفظ شرمناک گالی ہے۔ اس دوران ان کے وکیل حامد خان خاموشی سے کنارے کھڑے رہے۔
میری رائے پوچھیں تو کہوں گی کہ سپریم کورٹ نے خواہ مخواہ میں عمران خان کو اتنی اہمیت دی جس کو عمران نے ہیرو بننے کے لیے بھرپور استعمال کرتے ہوئے جیل جانے اور نااہلی سہنے کی بات کر ڈالی۔ ججوں کے لب و لہجے سے واضح تھا کہ شاید سپریم کورٹ معاملے کو ختم کرنا چاہیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلی سماعت کے لیے لمبی تاریخ ڈال دی۔ لیکن ایک چیز یہ بھی لگی کہ خان صاحب کھلاڑی ہی ہیں ابھی تک سیاست دان نہیں بنے، ان کے سٹائل میں میچیورٹی نہیں آئی بلکہ کھلنڈرا پن موجود ہے۔ محاز آرائی سے اجتناب کرنے کی بجائے ہلہ گلہ چاہتے ہیں۔ تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ درست کہتے ہیں کہ وہ انتخابات ایسے ہی نہیں ہارے بلکہ انکو ہرانے کے لیے دھاندلی میں عدلیہ کا پورا ہاتھ ہے۔ عمران خان نےانتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار تو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو ٹھہرا دیا ہے لیکن بھول گئے ہیں کہ انتخابات کرانے میں ایک تیسرا فریق پاک فوج بھی تھی۔۔۔۔جن کے کردار کے بارے میں خان صاحب نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا۔
Saturday, August 3, 2013
My Advice To Imran Khan PTI
My Advice To Imran Khan PTI
Written by : Dr. Faisal Ranjha
Let me be very candid and fair, Imran Khan PTI contempt notice was un-called for, completely unexpected and unwarranted, in fact it shocked many. Yes Imran Khan is very vocal against rigging in GE2013, the role of ECP and Courts. But to be fair to courts, ECP is an independent institution after 18 amendment, very powerful one as well, the Imran criticizing Supreme Court just doesn't sound right and just as well. His criticism of ECP may have reasons, justifications that are understandable but what the Supreme Court had to do with it is not understandable. Now let us not indulge into who is right and who is not, let's just focus on why i do feel Imran Should tender an unconditional apology to the court and make himself a True Democratic leader, true voice of his followers. As "Abraham Lincoln" once said... "In Great Contests Each Party Claims To Act In Accordance With The Will Of The God, Both May Be, and one must be wrong".Now let me explain why Imran Khan needs to tender an unconditional apology that would lead to a rise in his stature.
1) Imran Khan by tendering an apology can immediately take a psychological edge over its main rival PMLN, as their history regarding contempt notices is not very beaming and not worthy. As we all remember PMLN stormed the Justice Sajjad Ali Shah courts after their leader Nawaz Sharif ( Then PM ) was served with contempt notice, yes Sajjad Ali Shah was very controversial, was working at the behest of the then President Farooq Ahmad Leghari to throw out a Democratically Elected Government but history remembered the images of PMLN workers and Leaders storming in the Supreme Court building. PMLN leaders still taunted by their rivals of that unwanted decision made in haste, literally a black spot on the glaring political struggle of Mian Nawaz Sharif.
2) Imran Khan's stance doesn't sound convincing when he talks that the Supreme Court must intervene, take a sou moto if I am getting it right regarding his claims of rigging. Imran Khan must realize that after 18 amendments ECP is a very powerful institution they showed their muscle during the GE, when many decisions made by care takers were reversed by them, so it would have made two institutions SC and ECP at loggerheads with each other because Fakhr ud Din G Ibrahim always maintained that GE 2013 were one of the fairest in the history of Pakistan, his claims got an endorsement from Local and International observers as well. Secondly Imran Khan not even once Questioned ECP before the GE 2013, their placing of officers ( RO ) in different constituencies, similarly neither presiding officers were questioned till the results started coming on 11 May, even then Asad Umar appeared on the National Television , congratulated PMLN's victory. Finally Imran Khan himself confessed publicly and apologizing publicly regarding awarding of tickets in GE and Intra-Party polls.
3) Imran Khan seemingly endorsing PPP point of view regarding rigging in GE and Superior courts favouring the one party, the same PPP which got thrashing of a life time during the Polls, remiained at loggers head with SC regarding their Hundreds of billions rupees of loot and plunder, the same PPP which got reduced to from a Federal party to a Provincial party due to their poor governance, their Two former Prime Ministers facing jail in coming days, hundreds of billions of corruption cases pending in Supreme court, Nab and FIA, their President fearing of opening of Swiss cases once Presidential immunity is stripped off, their leaders openly mailgning the superior courts due to their hidden agenda. Imran Khan toeing their policies is simply mind boggling and wouldn't send the right signals to his voters and supporters.
4) Imran Khan PTI gets second highest votes in General Elections close to 7.5 million, becoming the second largest party in Pakistan, wiping PPP off from Punjab and KPK, forming a Government in KPK, winning a sizeable number of NA seats, getting their opposition leader placed in Punjab, Imran Khan gets huge applause in the Print and Electronic Media, dominating the Social Media. There is no doubt in my mind Imran Khan PTI is a government in waiting unless PMLN performs exceptionally and PTI performs badly in KPK because Imran Khan got a golden opportunity to make institutions and his agenda implemented in KPK, he must remember his performance now must be compared with other Provinces, glaring mistakes like D I Khan jail break will come to haunt him in coming Polls in 2018. With his performance he can give PMLN run for their money in coming GE or his party PTI may face the same fate as PPP.
5) Imran Khan's recent decision of contesting Presidential Polls despite being pursued by many to boycott the Polls won his laurels and high moral ground in Democratic circles, elevated him to the status of the main Opposition Party because PPP committed a blunder boycotting the Polls handing over the initiative to Imran Khan PTI which he grabbed with both hands. Imran Khan PTI can achieve towering and prominent stature by appearing in court, humbly submit his unconditional apology and take a much honorable route of constitutional and legal struggle against his claims of rigging in GE 2013. He should knock every door, take a difficult but logical course of his political struggle, believe me Imran Khan immediately will lift his stature as a leader, he will immediately get that moral superiority to his rivals because there are already many conspiracy theories and stories circulating in the market that this clash might derail Democracy once again, this will only result Imran Khan is being the net loser, PPP and PMLN winner, will revive PPP's dying politics.
Hope common sense will prevail at both ends, Imran Khan learn from history and courts as well learn from their past which unfortunately is not the one to talk about. Let me end this read with "Abraham Lincoln" Quote "I Do Not Think Much Of A Man Who Is Not Wiser Today Than He Was Yesterday".