Showing posts with label Amir Nawaz Khan. Show all posts

ابہام یا خوف

ابہام یا خوف

تحریر :عامر  نواز خان *

پاکستان کو اس وقت ریاستی چلینجز میں سے ایک سب سے بڑا چیلنج طالبان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں تمام طبقات اور ریاستی اداروں کو دہشت گردی کی جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔پچھلے دنوں حکیم اللہ کی موت (شہادت لکھنا یا اس پر بات کرنا ایک طویل اور لمبی بحث درکار ہے) پر پاکستان میں نظریاتی تفریق واضح طور پر نظر آئی جہاں شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے خوشی کا اظہار کیا جبکہ کچھ لوگ اس پر تزبزب کا شکار نظر آئے۔ ایسے موقع پر جب تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کو زمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا مولانا منور حسن اور مولانا فضل الرحمان کے بیانات نے گویا آگ لگا دی۔ میں نہ تو کوئی صحافی ہوں اور نہ ہی عالمی امور پر جامع دسترس رکھتا ہوں مگر ایک عام پاکستانی ہونے کے سامنے کچھ سوال آپ سب دوستوں کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

- اگر طالبان ہمارے اپنے بھائی ہیں تو پچھلے دس سال کے دوران پاکستانی افراد اور مسلح افواج پر حملے کیوں کیے؟
- اگر یہ مفروضہ بھی مان لیا جائے کہ طالبان یہود و ہنود کی سازش کا حصہ ہیں تو انہیں شہید کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔
- اگر طالبان ہمارے اپنے لوگ ہیں تو انہوں نے پاکستان کے دستور سے ہمیشہ انکار کیوں کیا؟
- اگر طالبان ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تو ان سے مزاکرات کے لیے اتنی منتیں ترلے کس لیے کئے جا رہے ہیں؟
- حالیہ دنوں میجر جنرل نیازی کی شہادت پر تمام سیاسی جماعتوں نے چپ سادھے رکھی جب کہ حکیم اللہ کی موت پر ایک بھونچال آگیا کیوں؟

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ حکومت طالبان کے حوالے سے سنجیدہ ہے یا نہیں مگر ایک بات وقت کے ساتھ واضح ہو رہی ہے کہ تمام دینی جماعتیں اور جمہوری جماعتیں طالبان کے حوالے سے یا تو ابہام کا شکار ہیں یا خوف کے باعث ایک واضح موقف اپنانے سے گریز کر رہی ہیں۔ منور حسن نے حکیم اللہ کو شہید کہتے وقت ایک لمحے کا خیال نہیں کیا کہ یہ وہی تحریک طالبان ہے جنہوں نے قاضی حسین احمد کو کافر کہا اور ان پر خودکش حملے کیے؟ کیا مولانا فضل الرحمان اپنی جان کے خوف اور مقامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے طالبان کو گلے لگانے کو مضطرب ہیں؟ یار رکھیں یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اگر خدانخواستہ پاکستان نہ رہا تو شاید نظریات کی یہ دکانیں کسی اناتھ آشرم کی نظر ہو جائیں۔ یہی وقت ہے جب ریاست کے تمام ادارے بالخصوص پاکستان آرمی اور موجودہ حکومت طالبان کے حوالے سے ایک واضح موقف اپنائیں۔ اگر یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں تو انکی زندگی میں واپسی کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائے ورنہ آپ سمجھدار ہیں کہ یہ لوگ کبھی ہتھیار پھینک کر پھول نہیں اٹھایئں گے۔

*پہلے یہاں چھپا 
Wednesday, December 11, 2013

جمہوریت اور اس سے وابستہ توقعات

جمہوریت اور اس سے وابستہ توقعات

تحرير: عامر نواز خان*

اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایک ہییجان کی کیفیت نظر آتی ہے۔ آپ کو ہر دور میں مختلف ادارے ایک دوسرے سے تصادم کرتے نظر آئینگے۔اس سلسلے کا آغاز لیاقت علی خان کے قتل سے شروع ہوگیا جسکا سلسلہ اب تک جاری ہے۔راقم کا بہت سے ایسے دوستوں سے سامنا ہوا ہے جنکے خیال میں جمہوریت ایک ناکام نظام حکومت ہے یا پاکستان جیسا ملک اسکا محتمل نہیں ہو سکتا۔ میں کچھ حد تک انکی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان میں لوگوں کی اکثریت کو جمہوری نظام سے کافی امیدیں وابستہ رہی ہیں جوکسی حد تک پوری نہیں ہوئیں اور اسکے نتیجے میں لوگ آہستہ آہستہ جمہوریت سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کو پنپنے میں ایک عرصہ لگا۔ ایوب خان کے طویل آمرانہ دور حکومت سے لوگ اکتا گئے۔ ایسے میں ذوالفقارعلی بھٹو میدان میں آئے اور جمہوریت کا علم بلند کیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان میں کیا ہوا اور کون سے عناصر ملوث تھے یہ ایک الگ بحث ہے مگر بھٹو نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔ ملک میں صنعتوں کا جال بچھایا گیا۔ عالمی اسلامی کانفرس منعقد ہوئی۔ ایٹمی پروگرام انہی کے زمانے میں شروع ہوا۔ بدقسمتی سے ذوالفقارعلی بھٹو سے کچھ سنگین غلطیاں ہوئیں جسکا فائدہ انکے مخالفین نے اٹھایا۔ نظام مصطفیٰ کا نعرہ لگا کردوبارہ ایک آمر کا راستہ ہموار کیا گیا جنہوں نے میرے عزیز ہم وطنو کی آڑ میں پاکستان کو ایک ایسی دلدل میں دکھیل دیا جسکا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

جمہوری طاقتوں کا دوسرا دور ٨٠ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو ١٩٨٦ میں پاکستان واپس تشریف لائیں۔ اس زمانے میں میاں نواز شریف پنجاب سے ابھرتے ہوئے سیاستدان تھے۔ چونکہ دونوں اس وقت عالم شباب میں تھے اور سیاسی ناپختگی کی وجہ سے ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہوئے۔ بینظیر کو یہ باور کرایا گیا کہ آپ بھٹو شہید کی سیاسی وارث ہیں اور اقتدار کی اصل مستحق جب کہ نواز شریف کو یہ تاثر دیا گیا کہ آپ پنجاب سے ابھرتے ہوئے پہلے رہنما ہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب دونوں رہنماؤں کو مل کر جمہوریت کے لیےکام کرنا چاہیے تھا مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ اس وقت خفیہ اداروں میں چھپی کالی بھیڑوں نے نواز شریف کو بینظیر کیخلاف استعمال کیا۔ ٨٠ اور ٩٠ کی دہائی میں ایک دوسرے کے  خلاف محاز آرائی اور پے درپے واقعات کے بعد دونوں رہنماؤں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور اسکا ازالہ میثاق جمہوریت سے کیا گیا۔


پیپلز پارٹی کی حکومت مشرف کی ٨ سالہ آمریت اور بینظیر کی شہادت کے بعد برسر اقتدار آئی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکی مگر کسی حد تک میڈیا کے منفی کردار نے جمہوریت سے متعلق لوگوں کو مزید متنفر کیا۔ ابھی مسلم لیگ(ن) جس نے گزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ، اس کو بھی پیپلز پارٹی جیسی صورتحال کا سامنا ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئیے کہ پاکستان میں جمہوری نظام حکومت کی کامیابی کے لیے لوگوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان کی حقیقت پسندی بھی چاہیے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کے ثمرات صحیح معنوں میں نظر آئیں۔


*پہلے یہاں شائع ہوا 
http://bit.ly/1blW6pL


تنگ نظری اور نظریاتی جنگ


*تنگ نظری اور نظریاتی جنگ

تحریر | عامر نواز خان 


اگر آپ نے گہرائی سے مشاہدہ کیا ہو تو ہمارے معاشرے میں بےچینی کی ایک کیفیت پائی جاتی ہے۔ اسکی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں ملک میں جاری دہشتگردی کی لہر،بجلی کی لوڈشیڈنگ، گرانی وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر موقعوں پر لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تلخ ہو جاتے ہیں اور انکی پوری کوشش ہوتی ہے سامع انکی بات سے مکمل طور پر اتفاق کرے ورنہ ہاتھا پائی کی نوبت بھی آسکتی ہے۔
بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے ٦٥ برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا۔ ایک ایسی ریاست کا خواب جہاں ناصرف مسلمان بلکہ تمام دیگر بسنے والی اکائیاں اپنی زندگی کو بہترین انسانی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد ایک ایسی تنگ نظری اور نظریاتی جنگ کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان میں دائیں اور بائیں بازو کے حامی رحجانات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ دائیں بازو کے مطابق پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئی ہے نیز اسلام کا قلعہ ہے جبکہ بائیں بازو یا لبرلز کے مطابق پاکستان ایک سیکولر ریاست ہونی چاہیے جہاں مذہب کا کردار ریاست کے امور سے مکمل طور پر الگ ہونا چاہیے۔اب مسئلہ نظریاتی رحجانات کا نہیں ان میں پائی جانیوالی شدت پسندی اور تنگ نظری کا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں آپکے پاس کوئی مڈل چوائس نہیں۔ یا تو تمام عمر ایک ملا بن کر گزاریں یا ایک لبرل اور سیکولر بن کر۔

ویسے تو یار دوست پاکستان میں موجودہ مسائل کی جڑ ملائیت کو قرار دیتے ہیں جس سے میں سو فیصد اتفاق کرتا ہوں مگر اس سے کہیں زیادہ گھمبھیر مسئلہ ہمارے اندر پائی جانیوالی تنگ نظری ہے۔ یہ وہ تنگ نظری ہے جسکا آغاز گھر سے نکلتے ہی ہو جاتا ہے اور آپکو ان گنت سوالوں سے گھیر لیا جاتا ہے۔
آپ مسلمان ہیں؟ شیعہ ہیں یا سنی؟
آپ پائنچے اوپر کیوں نہیں رکھتے؟
آپ نے روزہ رکھا یا نہیں؟ اگر نہیں رکھا تو کیوں نہیں رکھا؟
شراب کیوں پیتے ہو؟
آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی ہوئی؟ اگر رکھی ہوئی ہے تو کیا مولوی ہو؟
یہ تنگ نظری صرف یہیں آکر ختم نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے گلی محلوں، سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، آفس، چائے اور کھانے کے ڈھابوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں پائیں گے جہاں روزانہ ایک نئے تماشے کی آس لگائے لوگ بیٹھتے ہیں اور مخاطب اور سامع ایک دوسرے کی تنگ نظری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میں جو کہہ رہا ہوں وہ حقیقت پر مبنی ہے۔۔۔
تم جھوٹے ہو تمہاری شکل سے لگ رہا ہے۔۔۔
تم مولوی ہو، تم لبرل فاشسٹ ہو۔۔۔۔
تم فلاں میں فلاں۔۔۔۔
میں یہ تو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ ہمارے ازلی دشمن ہیں مگر ہمارے اندر پائی جانیوالی یہ تنگ نظری اور عدم برداشت ہماری سب سے بڑی دشممن بن چکی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ اکثر لوگ دہشتگردی اور طالبان کو ہماری اسٹیبلشمٹ کی باقیات قرار دیتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ ہمارے تنگ نظر خیالات اور عدم برداشت کی ایک جیتی جاگتی مثال بن چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں بسنے والے تمام لوگ ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کریں اور ایک دوسرے کیساتھ جینا سیکھیں ورنہ۔۔۔

تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔۔۔۔۔

بشکریه (http://bit.ly/1alBMEz)*


Share this

Labels

PTI (12) Democracy (10) Nawaz Sharif (8) PMLN (8) General Elections 2013 (7) Pakistan (7) Imran Khan (6) Irresponsible Media (6) Musharraf (6) PPP (5) Egypt (4) Rigging allegations (4) SCP (4) Taliban (4) media (4) Amir Nawaz Khan (3) Asif Zardari (3) Benazir Bhutto (3) Ch Nisar Ali Khan (3) Judiciary (3) Long March (3) Nausheen Yousuf (3) Police (3) Terrorism (3) Zulfiqar ali Bhutto (3) hadeed sher (3) Army Rule (2) Attack on state institutes (2) Azadi March (2) Baiber Saladin (2) Bomb (2) Contempt of court (2) Dictatorship (2) Establishment (2) Hamid Khan (2) Iftikhar Muhammad Ch. (2) Institutions (2) Investigation procedures (2) Javed Hashmi (2) KPK government (2) Kargil (2) Khawaja Saad Rafiq (2) Martial Law (2) NRO (2) National Assembly (2) Social media (2) TTP (2) Turkey (2) Urdu blog (2) 1977 Elections (1) Afzaal Farooqui (1) Akbar Bugti (1) Altaf Hussain (1) Article 6 (1) Ayesha Rehman (1) Ayub Khan (1) BJP (1) Bangladesh (1) Blue Area incident (1) By Elections (1) By Elections 2013 (1) CNN (1) Cantonment board elections 2015 (1) Change (1) CoAS (1) Columns (1) Constitution (1) Daily Express (1) Democractic practices (1) Drama (1) Drone attacks (1) ECP (1) Education Emergency (1) Elections (1) Enlighten moderation (1) Extremism (1) Federal Cabinet 2013 (1) Gen Kiani (1) General Raheel Shareef (1) Hamid Mir (1) Ideology (1) JI jirga (1) Jahangir Tareen (1) Jason Miks (1) Kisan Package (1) Liaqat Ali Khan (1) Liberation of thoughts (1) Mamnoon Hussain (1) Military Establishment (1) NA 154 (1) NADRA (1) NDMA (1) Nanga Parbat Massacre (1) Okara (1) Pak Army (1) Pakistan National Alliance (1) Pakistan Railways (1) Parliament (1) Politics (1) Presendential Elections (1) Presidential Elections 2013 (1) Prisoners (1) Protests (1) Punjab (1) Raza Rabbani (1) Religion (1) Resignations of PTI (1) Sardar Ayyaz Sadiq (1) Saulat Mirza (1) Secularism (1) Senate (1) South Punjab (1) Suo Moto actions (1) Tahir Al Qadri (1) Tariq Malik (1) Tax evaders (1) Tourism (1) US Elections (1) WAPDA (1) White Paper (1) Writ of the state (1) Zahida Hina (1) Zia ul Haq (1) federation (1) freedom of press (1) twitter (1)
Powered by Blogger.

Followers

Disclaimer

- Copyright © Amidst Democracy -Metrominimalist- Powered by Blogger - Designed by Johanes Djogan -