Showing posts with label Nausheen Yousuf. Show all posts
بلیو ایریا میں پپلی لائیو اور پنجابی فلم کا آنکھوں دیکھا حال
بلیو ایریا میں پپلی لائیو اور پنجابی فلم کا آنکھوں دیکھا حال
تحریر :نوشین یوسف
ایک صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ بلیو ایریا میں موجود ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی ہے۔ جناح ایونیو
پردیکھا تو ایک مسلح شخص گاڑی روکے ہوائی فائرنگ کر رہاہے۔ پولیس نے چائنہ چوک
جانے والی سڑک کو بند کر رکھا تھا۔ مسلح شخص دونوں ہاتھوں میں اسلحہ اٹھائے وقفہ
وقفہ سے فائرنگ کررہا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس شخص کو ٹریفک پولیس نے روکا
تو وہ دوڑ پڑا۔ آگے ناکے پر موجود اسلام
آباد پولیس نے گاڑی کو ٹکر مار کر روکا۔ لیکن اس کی ہوائی فائرنگ کے جواب
میں پولیس نے اس پر فائرنگ نہیں کی جس کی وجہ مسلح شخص کی گاڑی میں موجود اس کی فیملی
تھی۔ اس اقدام نے پولیس کے تبدیل اور ذمہ دارانہ روایہ کی عکاسی کی۔۔۔
جلد ہی بلیو ایریا میں چلتی ایکشن فلم کی اطلاع ہر طرف پھیل گئی۔ سڑک کے چاروں
اطراف لوگ اکھٹا ہوکر تماش بین بن گئے۔ مسلح شخص سکندر جب جوش میں سب مشین گن یا
کلاشنکوف سے فائر کرتا تومجمع دور بھاگ جاتا۔ اس سب کے دوران اس کی گاڑی میں
موجود دو بچے اور اسکی اہلیہ خاصے پرسکون رہے۔ گویا کہ ان کے لئے یہ معمول کی بات
ہے۔ جلد ہی یہ بات واضح ہونا شروع ہو گئی کہ سکندر کوئی نفسیاتی مریض ہے اور شاید
نشے میں ہے۔ بات شروع ہوگئی کہ اب اس شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جائے گا لیکن
ایسا نہیں ہوا۔
ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے مسلح سکندر پر گولیوں کی بوچھاڑ کرنے کا
حکم دینے کے بجائے پیشہ وارانہ رویہ اپنایا اور اس سے خود مذاکرات کا عمل شروع
کیا۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ پولیس سکندر کو ایک ذہنی مریض کے طور پر لے رہی ہے،
اور اسے مقابلے میں مارنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ڈاکٹر رضوان نے ایک ماہر نفسیات کے
طور پرسکندر سے مطالبات دریافت کیے۔ سکندر نے پولیس سے مذاکرات کے لیے اپنی بیوی
کو پیغام رساں کے طور پر استعمال کیا۔ سکندر نے ملک میں نفاز شریعت کی آواز بلند
کرنا شروع کر دی۔
اس دوران میڈیا نے ہرطرف سے کیمرے لگا کر اس فلم کوبراہ راست نشرکرنا شروع کر
دیا۔ جس جگہ سے اچھی عکس بندی ہو سکے کیمرا لگا کر میڈیا کا کام شروع ہو جاتا۔ اس
دوران دو ٹی وی کمیرہ مینوں میں جھڑپ ہو گئی، ڈنڈے اٹھا لیے گئے لیکن جب سکندر نے
گولی چلائی تو سب لڑائی چھوڑ کر کام پر لوٹ گۓ ۔
اس دوران میڈیا کو ہٹانے کی کوشش کی گئی
تو وہ بپھر پڑا کہ پولیس کو کیا اختیار ہمارے کام میں مداخلت کا یہ اختیار تو
صرف ہمارا ہے کہ پولیس کے کام میں ٹانگ اڑائیں۔ میاں بیوی کا جوڑا کچھ ہی دیر میں میڈیا
کے ہیرو تھے خوشی خوشی دونوں میڈیا کے اینکرز کو لمبے لمبے بیپر دے رہے تھے۔ میڈیا
پر براہ راست کوریج دیکھ کر تماشبینوں کے ہجموم میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔
پولیس کی حکمت عملی سے واضح تھا کہ وہ سکندر اور اس کی اہلیہ کو تھکانا چاہتے
ہیں اور بہلا پھسلا کر انھیں اسلحہ چھوڑنے پر مجبور کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پولیس
کا طریقہ مغربی ممالک کی سیکیورٹی فورسز جیسا تھا، جہاں محض ہوائی فائرنگ کرنے
والے ذہنی مریض کو ہلاک نہیں کیا جاتا، بلکہ 24 گھنٹوں تک کی کاروائی کے بعد تھکا
کر زندہ دبوچ لیا جاتا ہے۔
لیکن ایسے میں زمرد خان مولا جٹ کے
روپ میں بچوں کو بچانے میدان میں آ گئے۔ سکندر کو بہلا کر انھوں نے اپنے قریب کیا۔
اور یک دم اس پر چھپٹ پڑے لیکن اسے دبوچنے میں ناکام ہو گئے۔ اور پھسل گئے ، اس
چھینا جھپٹی میں گولی چلی اور زمرد خان بھاگتے ہوئے سکندر کی بیوی بچوں کی ڈھال میں
چلے گئے۔
پولیس کے لیے زمرد خان کی کاروائی بالکل اچانک تھی، لیکن انھوں نے فوری رد عمل
دکھایا، اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سکندر کو اس کے بچوں کے سامنے گولی لگی۔ سیکورٹی
فورسز کی بروقت کاروائی سے گولی سکندر کے پیر اورسینے میں لگی، لیکن بات عیاں تھی
کہ گولی سے اس کی جان محفوظ رہی۔ میڈیا نے فوری زمرد خان کو ہیرو بنا دیا لیکن
اگر ان کی اس بے ساختہ حرکت سے کوئی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟ کیا ذمرد خان نے
قانون کو پنجابی فلموں کے ہیروں کی طرح ہاتھ میں نہیں لیا تھا؟ کیا وہ باکل اناڑی
کی طرح سکندر پر نہیں جھپٹے تھے؟۔یہ وہ سب تلخ حقائق ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ زمرد
خان نے کسی بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا-
پولیس کی جانب سے پیشہ وارانہ رویہ لائق تحسین ہے، ورنہ ماضی میں پاکستانی
پولیس کی جانب سے ایسے واقعات پولیس مقابلے پر ہی اختتام پزیر ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس
ہے ان عقلوں پر جنھوں نے پولیس کے نفسیاتی
مریض سے نمٹنے کے طریقے کو ڈرپوکی کا طعنہ دیا۔ میری تمنا ہے کہ مستقبل میں ہماری
پولیس نفسیاتی مریضوں کو ایسے ہی ہینڈل کرے لیکن مولا جٹ سٹائل ڈراپ سین نہ
ہونے دے۔۔۔۔۔
Friday, August 16, 2013
توہین عدالت کیس: عمران خان کا بنچ نمبر ون میں ایک دن
توہین عدالت کیس: عمران خان کا بنچ نمبرون میں ایک دن
تحرير : نوشين يوسف
عام انتخابات میں ناکامی کے بعد عدلیہ کے کردار کو شرمناک کہنا۔۔۔سپریم کورٹ
نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو توہین عدالت نوٹس بھجوا ہی دیا. ٢ اگست کو عمران خان اپنا دفاع کرنے سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون پہنچے
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل حامد خان نے تفصیلی جواب جمع کرانےکے لئے کچھ مہلت مانگی۔ بعد ازاں انھوں نے مختصر بیان عدالت کو سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کبھی عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عمران تو قانون اور عدلیہ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد ہے۔ عمران کو عام انتخابات میں دھاندلی پر الیکشن کمیشن سے شکوہ ہے اور انھیں سپریم کورٹ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔

اس دوران بار بار عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کوئی نہ کوئی ساتھی بٹھا دیتا۔ اس دوران حامد خان بھی تھوڑے پریشان دیکھے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حامد خان سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی 31 درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں داخل ہیں۔ عمران خان کوآئین کے بارے میں بتائیں کہ جو کیسز الیکشن ٹریبیونل میں زیر سماعت ہوتے ہیں وہ سپریم کورٹ میں سنے نہیں جا سکتے۔
جب چیف جسٹس نے عمران خان کی پریس کانفرنس کے بارے میں دریافت کیا کہ جس میں انھوں نے عدلیہ کے لیے لفظ شرمناک کا استعمال کیا، تو حامد خان نے جواب دیا وہ تو ریٹرنگ افسران کے بارے میں رائے تھی۔ بنچ نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق تو عدلیہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہے۔ پھر بنچ نے دریافت کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ معافی نہیں مانگیں گے۔ حامد خان بولے کہ یہ میڈیا والے بھی نہ ہر چیز ۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہےکہ عمران خان ایک قد آور شخصیت ہیں، ان کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ چیف جسٹس اس طرح دباؤ میں آنے لگیں تو لوگ کہیں گے کہ ہمارا مقدمہ سنیں ورنہ گالی دیں گے۔ بالا آخر عمران خان اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈائس پر جا کر اپنے بات شروع کر دی۔۔ کہنے لگے کہ میں نہ آزاد عدلیہ کی بحالی کی خاطر 8 روز جیل کاٹی ہے، جو کسی سیاست دان نے نہیں کاٹی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا مت کہیں شرمندگی ہوتی ہے، بحالی عدلیہ کے لیے مزدوروں ، طالبعلوں پوری قوم نے کردار ادا کیا۔
عمران خان نے جب دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی تو بنچ نے نرمی سے کہا کہ آپ کے وکیل بات کر رہے ہیں نا۔۔۔۔(مقصد شاید عمران خان کو کوئی غلط بیان دینے سے روکنا تھا)۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان آپ کی پٹیشن پر یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا،آپ کہتے تھے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سپریم کورٹ کیسے مان لے کہ ماتحت عدلیہ کو شرمناک کہنا درست ہے۔ خیر سماعت کے بعد عدلیہ نے عمران خان کو 28 اگست تک دوبارہ جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب اتنی لمبی سماعت کی مہلت دینے پر کوئی پریس کانفرنس نہ ہو جائے۔
لیکن خان صاحب بھی جب عدالت سے باہر نکلے تو میڈیا سے اجتناب کرنے کی بجائے پھر گفتگو کر ڈالی اور کہا کہ انھیں پہلی مرتبہ علم ہوا ہے کہ لفظ شرمناک گالی ہے۔ اس دوران ان کے وکیل حامد خان خاموشی سے کنارے کھڑے رہے۔
میری رائے پوچھیں تو کہوں گی کہ سپریم کورٹ نے خواہ مخواہ میں عمران خان کو اتنی اہمیت دی جس کو عمران نے ہیرو بننے کے لیے بھرپور استعمال کرتے ہوئے جیل جانے اور نااہلی سہنے کی بات کر ڈالی۔ ججوں کے لب و لہجے سے واضح تھا کہ شاید سپریم کورٹ معاملے کو ختم کرنا چاہیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلی سماعت کے لیے لمبی تاریخ ڈال دی۔ لیکن ایک چیز یہ بھی لگی کہ خان صاحب کھلاڑی ہی ہیں ابھی تک سیاست دان نہیں بنے، ان کے سٹائل میں میچیورٹی نہیں آئی بلکہ کھلنڈرا پن موجود ہے۔ محاز آرائی سے اجتناب کرنے کی بجائے ہلہ گلہ چاہتے ہیں۔ تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ درست کہتے ہیں کہ وہ انتخابات ایسے ہی نہیں ہارے بلکہ انکو ہرانے کے لیے دھاندلی میں عدلیہ کا پورا ہاتھ ہے۔ عمران خان نےانتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار تو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو ٹھہرا دیا ہے لیکن بھول گئے ہیں کہ انتخابات کرانے میں ایک تیسرا فریق پاک فوج بھی تھی۔۔۔۔جن کے کردار کے بارے میں خان صاحب نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا۔
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل حامد خان نے تفصیلی جواب جمع کرانےکے لئے کچھ مہلت مانگی۔ بعد ازاں انھوں نے مختصر بیان عدالت کو سنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کبھی عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عمران تو قانون اور عدلیہ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جدوجہد ہے۔ عمران کو عام انتخابات میں دھاندلی پر الیکشن کمیشن سے شکوہ ہے اور انھیں سپریم کورٹ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔

اس دوران بار بار عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کوئی نہ کوئی ساتھی بٹھا دیتا۔ اس دوران حامد خان بھی تھوڑے پریشان دیکھے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حامد خان سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی 31 درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں داخل ہیں۔ عمران خان کوآئین کے بارے میں بتائیں کہ جو کیسز الیکشن ٹریبیونل میں زیر سماعت ہوتے ہیں وہ سپریم کورٹ میں سنے نہیں جا سکتے۔
جب چیف جسٹس نے عمران خان کی پریس کانفرنس کے بارے میں دریافت کیا کہ جس میں انھوں نے عدلیہ کے لیے لفظ شرمناک کا استعمال کیا، تو حامد خان نے جواب دیا وہ تو ریٹرنگ افسران کے بارے میں رائے تھی۔ بنچ نے یاد دلایا کہ آئین کے مطابق تو عدلیہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہے۔ پھر بنچ نے دریافت کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ معافی نہیں مانگیں گے۔ حامد خان بولے کہ یہ میڈیا والے بھی نہ ہر چیز ۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہےکہ عمران خان ایک قد آور شخصیت ہیں، ان کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ چیف جسٹس اس طرح دباؤ میں آنے لگیں تو لوگ کہیں گے کہ ہمارا مقدمہ سنیں ورنہ گالی دیں گے۔ بالا آخر عمران خان اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈائس پر جا کر اپنے بات شروع کر دی۔۔ کہنے لگے کہ میں نہ آزاد عدلیہ کی بحالی کی خاطر 8 روز جیل کاٹی ہے، جو کسی سیاست دان نے نہیں کاٹی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا مت کہیں شرمندگی ہوتی ہے، بحالی عدلیہ کے لیے مزدوروں ، طالبعلوں پوری قوم نے کردار ادا کیا۔
عمران خان نے جب دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی تو بنچ نے نرمی سے کہا کہ آپ کے وکیل بات کر رہے ہیں نا۔۔۔۔(مقصد شاید عمران خان کو کوئی غلط بیان دینے سے روکنا تھا)۔
چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان آپ کی پٹیشن پر یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا،آپ کہتے تھے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سپریم کورٹ کیسے مان لے کہ ماتحت عدلیہ کو شرمناک کہنا درست ہے۔ خیر سماعت کے بعد عدلیہ نے عمران خان کو 28 اگست تک دوبارہ جواب داخل کرانے کی مہلت دے دی۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے ہنستے ہوئے ریمارکس دیے کہ اب اتنی لمبی سماعت کی مہلت دینے پر کوئی پریس کانفرنس نہ ہو جائے۔
لیکن خان صاحب بھی جب عدالت سے باہر نکلے تو میڈیا سے اجتناب کرنے کی بجائے پھر گفتگو کر ڈالی اور کہا کہ انھیں پہلی مرتبہ علم ہوا ہے کہ لفظ شرمناک گالی ہے۔ اس دوران ان کے وکیل حامد خان خاموشی سے کنارے کھڑے رہے۔
میری رائے پوچھیں تو کہوں گی کہ سپریم کورٹ نے خواہ مخواہ میں عمران خان کو اتنی اہمیت دی جس کو عمران نے ہیرو بننے کے لیے بھرپور استعمال کرتے ہوئے جیل جانے اور نااہلی سہنے کی بات کر ڈالی۔ ججوں کے لب و لہجے سے واضح تھا کہ شاید سپریم کورٹ معاملے کو ختم کرنا چاہیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگلی سماعت کے لیے لمبی تاریخ ڈال دی۔ لیکن ایک چیز یہ بھی لگی کہ خان صاحب کھلاڑی ہی ہیں ابھی تک سیاست دان نہیں بنے، ان کے سٹائل میں میچیورٹی نہیں آئی بلکہ کھلنڈرا پن موجود ہے۔ محاز آرائی سے اجتناب کرنے کی بجائے ہلہ گلہ چاہتے ہیں۔ تاکہ دنیا کو لگے کہ وہ درست کہتے ہیں کہ وہ انتخابات ایسے ہی نہیں ہارے بلکہ انکو ہرانے کے لیے دھاندلی میں عدلیہ کا پورا ہاتھ ہے۔ عمران خان نےانتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار تو الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو ٹھہرا دیا ہے لیکن بھول گئے ہیں کہ انتخابات کرانے میں ایک تیسرا فریق پاک فوج بھی تھی۔۔۔۔جن کے کردار کے بارے میں خان صاحب نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا۔
Saturday, August 3, 2013
رنگ برنگی صدارتی انتخابی مہم
رنگ برنگی صدارتی انتخابی مہم | بائیکاٹ نے رنگ میں بھنگ ڈال دی
تحرير : نوشين يوسف
صدرآصف علی زرداری نے ایوان صدر میں اپنی جمہوری مدت پوری کی ۔ 6 اگست کے صدارتی انتخاب کے لیے جولائی 2013 میں صدارتی انتخابات کی مہم شروع ہوئی۔۔ پیپلز پارٹی صدارتی انتخابی مہم میں پہلے میدان میں کودی۔ اوراٹھارویں آئینی ترمیم کے مصنف سینٹر رضا ربانی کو اپنا امیداور نامزد کر دیا۔۔ انتخابی نعرہ لگایا کہ رضا ربانی جیسا موزوں صدر کا امیداور کوئی اور نہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے امیداور کے لیے ووٹ مانگنے نکلی۔۔۔کبھی چودہدری شجاعت کے گھر،کبھی آفتاب شیرپاو کے، اور کبھی اسفندیار ولی کے ایم کیو ایم، جمعیت علماء اسلام (ف) سے رابطے کیے. بی این پی عوامی ، مسلم لیگ (ق) اور عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا ووٹ رضا ربانی کو دینے کا اعلان کیا۔۔پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف سے بھی رابطے کیے اور مشترکہ اپوزیشن امیدوار لانے کی پیشکش کی۔۔۔
| ۔پیپلز پارٹی صدارتی انتخابی مہم میں پہلے میدان میں
کودی ۔۔۔ اوراٹھارویں آئینی ترمیم کے مصنف سینٹر رضا ربانی کو اپنا امیداور نامزد کر دیا |
| اس بائیکاٹ سے پاکستان میں جمہوری عمل کو ٹھیس لگی ہے |
پیپلز پارٹی نے اس اقدام سے ن لیگ کی سیاست کو شدید دھچکا دیا ۔ صدارتی انتخابات متنازع ہو گئے۔۔۔ پی پی نے موقف اپنایا کہ صرف دو روز کی مہم میں امیدوار کا صوبائی اسمبلیوں سے رابطہ ممکن نہیں۔ صوبائی اسمبلیوں کا استحقاق مجروع ہوا ہے۔ یہ وفاق پر حملہ ہے۔ سوال اٹھا کہ ن لیگ نے انتخابات کی تبدیلی کے لیے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا ؟ سپریم کورٹ کے کندھے سے بندوق کیوں چلائی ؟ جب پاکستان 27 رمضان کو بن سکتا ہے تو پھر صدارتی انتخاب اس تاریخ کو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ پیپلز پارٹی کے میدان چھوڑنے سے انتخابات کا مزہ کڑکڑا ہو گیا ۔ گو کہ پیپلز پارٹی کو ابتدائی دور پر ہمدردی مل گئی ہے۔۔ لیکن پیپلز پارٹی کی جمہوریت پسندی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ اقدام ایک منتخب حکومت کے خلاف محاز آرائی کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے۔۔ پاکستان جیسی نوزائیدہ جموریت کے لیے خطرناک ہے۔ اس بائیکاٹ سے پاکستان میں جمہوری عمل کو ٹھیس لگی ہے ۔
Sunday, July 28, 2013
