Showing posts with label Baiber Saladin. Show all posts
سپریم کورٹ اور جمہوری حکومت کی بحالی
سپریم کورٹ اور جمہوری حکومت کی بحالی
تحرير : بيبر صالعدين
پڑھا لکھا پنجاب یعنی جناب چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے شروع کیا جانے والا حکومت پنجاب کا چار ہزار ایکڑ پر محیط نیو مری پروجیکٹ پاکستان کی ماحولیاتی آلودگی میں بے پناہ اضافہ کر سکتا تھا مگر اس کے پیچھے قارون پاکستان جناب ملک ریاض صاحب کا ہاتھ تھا جنہیں فرعون پاکستان جناب مشرف صاحب اور انکے درباری جرنیلوں کا آشیرباد بھی حاصل تھا -جرنیلوں کو بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کے تجربے سے رئیل اسٹیٹ کے بزنس کی لگی لت اس ماحولیاتی دہشت گردی کے منصوبہ کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی ضمانت تھی- اگر سپریم کورٹ کا سوموٹو نوٹس ہرکولیس کے ہتھوڑے کی طرح پاکستان کے طاقتور ترین افراد کے مال بنانے کے خواب پر برس نہ پڑتا تو بنیادی سہولیات سے محروم عوام صاف فضا میں سانس لینے کے بنیادی حق سے بھی محروم ہوجاتی
پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوص امریکہ کو بیچنے کا اعتراف کرنے والے فوجی سربراہ جرنل مشرف اور اس انسانی بیو پار میں شریک جرم دیگر افسران کے لئے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سپریم کورٹ کا سوموٹو نوٹس اور اس سلسلہ میں ملوث اداروں پر بازیابی کے لئے دبائو ناقابل قبول تھا- ایسی صورت حال میں سول سپریم کورٹ پر فوجی بالادستی قائم کرنا فوج کی اعلٰی قیادت کی دانست میں ناگزیر تھا- اسی بلا دستی کو قائم کرنے کی ضد میں جرنل مشرف نے فوج کے پانچ اہم جرنیلوں جن میں اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جناب اشفاق پرویز کیانی بھی شامل تھے کے ہمراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب چودھری افتخار کو آرمی ہاؤس بلا کر استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا - جو واضح طور پر فوج کی طرف سے ایک سول ادارے کو اپنی بالادستی کا پیغام تھا- چیف جسٹس چودھری افتخار نے فوجی سربراہ کا حکم ماننے سے صاف انکار کر دیا وہ انکار جس نے آزاد عدلیہ تحریک کا روپ دھار لیا اور ملک میں قائم سیاسی جمود کو توڑ دیا-اپنے آمرانہ طرز حکومت کے باعث عوام میں غیر مقبول مشرف حکومت کے سپریم کورٹ پر حملے کے جواب میں عدلیہ تحریک سے آمریت لڑ کھڑا اٹھی- اپنے اقتدار کے لئے سیاسی جماعتوں کو زہر مہلک سمجھنے والی آمریت سنبھلنے کی کوشش میں پیپلز پارٹی سے شراکت اقتدار پر آمادہ ہوگئی - جس کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی کی چیرُیرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی ممکن ہوئی جو بہرحال آگے چل کر 2008 میں فوج سے عوام کو اقتدار کی منتقلی کا اہم جز ثابت ہوئی١٩٩٩ سے جاری دور آمریت کے مظالم کو ایک اور ظلم سے چھپانے کے لئے بدنام زمانہ قومی مفاہمتی آرڈیننس این-آر-او جاری کیا گیا جس میں آٹھ ہزار کے قریب ملزموں کو بغیر کسی صفائی کے باعزت بری کیا گیا -آرڈیننس کو عوامی حلقوں نے ماننے اس انکار کر دیا یہاں تک کے پارلیمان میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی نے اسے ایوان میں پیش کرنے سے گریز کیا - انہی عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ٢٠٠٧ میں سپریم کورٹ نے پہلے اس آرڈیننس کو معطل اور بعد میں ٢٠٠٩ میں کالعدم قرار دیا
فوج اور سول عوام کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری رہے گی -١٩٧٧ کے انتخابات کے بعد اسٹبلشمنٹ کے من پسند اتحاد پی-این-اے کی شکست کے بعد دھاندلی کے نام پر سول حکومت کے خلاف مظاہروں کی سازشی سیاست جیسے حربے آج بھی آزمائے جا رہے ہیں تاہم سپریم کورٹ نے بھی دھاندلی کا ڈھول پیٹنے والوں کو عدالت میں طلب کر لیا ہے اور امید ہے کے طاہر القادری کے ایجنڈے کی طرح اس ایجنڈے کو بھی عوام کے سامنے غلط ثابت کر دے گی
سپریم کورٹ اور جمہوری حکومت کی بحالی http://t.co/ReU7gGUjiT
— Amidst Democracy (@amidstdemocracy) August 11, 2013
Sunday, August 11, 2013
جمہوریت بمقابلہ فوجی آمریت
جمہوریت بمقابلہ فوجی آمریت
مصر ، ترکی ، پاکستان ، بنگلہ دیش ایسے بیشمار ممالک میں سے صرف چند ہیں
جن کے سیاسی افق پر اقتدار کے حصول کے لئے مختلف قوتوں کے مابین
کشمکش بخوبی دیکھی جاسکتی ہے-اقتدر کے حصول کے لئے آپس میں
برسرہ پیکار ان گروہوں کو عوامی اور فوجی میں تقسیم کرنا خصوصاً ان چار
ممالک میں کچھ نامناسب نہ ہوگا- عوامی گروہ سیاسی جماعتوں کی شکل میں جب
-کے فوجی ہرملک کی قومی فوج کی شکل میں موجود ہیں
کشمکش بخوبی دیکھی جاسکتی ہے-اقتدر کے حصول کے لئے آپس میں
برسرہ پیکار ان گروہوں کو عوامی اور فوجی میں تقسیم کرنا خصوصاً ان چار
ممالک میں کچھ نامناسب نہ ہوگا- عوامی گروہ سیاسی جماعتوں کی شکل میں جب
-کے فوجی ہرملک کی قومی فوج کی شکل میں موجود ہیں
اوپر کی گئی تقسیم کو قبول کر لینا کچھ آسان ہوتا اگر فوجی حضرات اور انکے
قصیدا گوہ جو کے ایک اچھی بڑی تعداد میں معقول معاوضہ پر ذرائع ابلاغ کے
تمام اداروں میں موجود ہیں عوامی طاقت کے بل بوتے پرسیاست کرنے والوں کو
غیرعوامی اور بندوق اٹھا کر دیوار پھلانگ کر اقتدار پر قابض ہونے والوں کو
عوامی نہ ثابت کر چکے ہوتے- حال ہی میں مصر کے جرنل سی سی اور 1999
کے پاکستانی جرنل مشرف کی اقتدار پہ قابض ہونے کے فوراً بعد کی تقاریر اور
اس کے بعد قصیدا گوہ حضرات کےتجزیوں میں حیرت انگیز طور پر پائی جانے
والی یکسانیت ، بندوق کے زور سے اقتدارپہ قبضہ کو عوامی طاقت سے اقتدار کا
تمام اداروں میں موجود ہیں عوامی طاقت کے بل بوتے پرسیاست کرنے والوں کو
غیرعوامی اور بندوق اٹھا کر دیوار پھلانگ کر اقتدار پر قابض ہونے والوں کو
عوامی نہ ثابت کر چکے ہوتے- حال ہی میں مصر کے جرنل سی سی اور 1999
کے پاکستانی جرنل مشرف کی اقتدار پہ قابض ہونے کے فوراً بعد کی تقاریر اور
اس کے بعد قصیدا گوہ حضرات کےتجزیوں میں حیرت انگیز طور پر پائی جانے
والی یکسانیت ، بندوق کے زور سے اقتدارپہ قبضہ کو عوامی طاقت سے اقتدار کا
-حصول ثابت کرنے کی ہی کاوشیں ہیں
تاہم دونوں گروہ ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں کے عوامی نصرت سے اقتدارمیں
آنا ہی افضل ہے-اس اقتدار کے عوامی نصرت سے حصول کو ہی جمہوریت اور
اس کے برخلاف بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کو آمریت کہا جاسکتا ہے- ہم یہ
کہہ سکتے ہیں کے ان چاروں ممالک میں جمہوریت بمقابلہ فوجی آمریت جنگ
جاری ہے- ترکی میں فوجی جرنیلوں کا ٹرائل ہو یا مصر میں فوجی جرنیل کے
ہاتھوں مرسی حکومت کے خاتمہ کے خلاف مظاہرین کا مصری فوجی ہیڈ کوارٹر
-کے باہر احتجاج دونوں اس جنگ کے ثبوت ہیں
اقتدار کا کوئی فرد ،ادارہ یا جماعت تنہا دعویدار تو ہو سکتے ہیں پر ہرگز حقدار
نہیں ہو سکتے کیونکہ اقتدار پر ہر شخص کا برابر حق تسلیم کرنا ہی عدل سے
قریب تر ہے-یہی وجہ ہے کے اقتدار پر شبخون مارنے والےبھی عوامی تائید کے
دعٰوی کرنے پر مجبور ہیں-انسان آپس میں اختلاف کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے
سب کے سب انسان ایک رائے پر جمع نہیں ہوسکتے تاہم جب تخت ایک ہو اور
دعویدار زیادہ تو کثرت رائے سے حکومت سپرد کر دینے کا جمہوری طریقہ جس
-سے دنیا الیکشن کے نام سےآگاہ ہے ایک بہترین حقیقت پسندانہ طریقہ کار ہے
Monday, July 8, 2013